چاروں الہامی کتابیں ایک خدا نے نازل کیں تو ان میں اتنا فرق کیوں ہے؟

تورات، زبور، اناجیل اور قرآن زبان، صنف، اسلوب، تنظیم، ڈکشن، متکلم، مخاطب اور ابلاغ کی سمت تک میں ایک دوسرے سے بے حد مختلف ہیں

چاروں الہامی کتابیں ایک خدا نے نازل کیں تو ان میں اتنا فرق کیوں ہے؟

اسلامی عقیدے میں چار الہامی کتابوں کا تصور پیش کیا جاتا ہے۔ تورات موسیٰ پر، زبور داؤد پر، انجیل عیسیٰ پر اور قرآن رسول اللہ پر نازل کیا گیا۔ قرآن خود تورات، زبور اور انجیل کو خدا کی طرف سے عطا کردہ صحائف قرار دیتا ہے اور اپنی وحی کو انھیں کا تسلسل بتاتا ہے۔ اس مذہبی تصور کو ادبی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو ایک غیر معمولی مسئلہ سامنے آتا ہے۔ جن چار کتابوں کو ایک ہی مصدر سے نکلا ہوا بتایا جاتا ہے، وہ محض زبان، زمانے اور تفصیلات میں مختلف نہیں بلکہ صنف، اسلوب، تنظیم، ڈکشن، متکلم، مخاطب اور ابلاغ کی سمت تک میں ایک دوسرے سے اس قدر مختلف ہیں کہ انھیں ایک ہی قسم کی کتابوں کی فہرست میں رکھنا دشوار ہوجاتا ہے۔

یہاں پہلے ایک اصطلاحی مسئلہ بھی واضح کرنا ضروری ہے۔ تورات سے مسلمانوں کی مراد عموماً موسیٰ پر نازل ہونے والی ایک کتاب لی جاتی ہے، لیکن موجودہ یہودی توراہ پیدائش، خروج، احبار، گنتی اور استثنا پر مشتمل پانچ کتابوں کا مجموعہ ہے۔ اسی طرح زبور داؤد پر نازل الہامی کتاب تصور ہوتی ہے جبکہ یہ ڈیڑھ سو مذہبی نظموں کا مجموعہ ہے۔ انجیل کو قرآن میں واحد کتاب کے طور پر عیسیٰ پر نازل قرار دیا جاتا ہے جبکہ مسیحی عہدنامۂ جدید میں ہمارے پاس متی، مرقس، لوقا اور یوحنا کی چار اناجیل ہیں، جو عیسیٰ پر نازل ہونے والی کتابیں نہیں بلکہ عیسیٰ کی زندگی، اقوال، اعمال، موت اور مسیحی عقیدے کے مطابق دوبارہ زندہ ہونے کے واقعات بیان کرنے والی تحریریں ہیں۔ رچرڈ بررج نے اپنی کتاب واٹ آر گوسپالز میں مفصل تقابل کے بعد دکھایا ہے کہ چاروں اناجیل یونانی و رومی دنیا کی قدیم سوانح، یعنی بایوس سے نمایاں خاندانی مشابہت رکھتی ہیں۔ ان میں ایک مرکزی شخصیت، زمانی پیشرفت، واقعات، اقوال اور خطبات ہیں اور عیسیٰ کی زندگی کے آخری حصے کو غیر معمولی جگہ دی گئی ہے۔

تورات کا غالب ادبی مزاج اس سے مختلف ہے۔ اس میں تخلیقِ کائنات، آدم، نوح، ابراہیم، اسحاق، یعقوب، یوسف اور موسیٰ کی داستانیں، نسب نامے، قومی تاریخ، عہد، مذہبی قوانین اور رسوم ایک بڑے تاریخی بیانیے میں شامل ہیں۔ رابرٹ آلٹر اپنی کتاب دا آرٹ آف ببلیکل نیریٹو میں عبرانی بائبل کی کہانیوں کو نہایت مختصر مگر فن کارانہ بیانیہ قرار دیتے ہیں جس میں چند الفاظ، بار بار آنے والے کلیدی الفاظ، واقعات کی مماثلت، مکالمہ اور دانستہ تکرار معنی پیدا کرتے ہیں۔ اس کے مطابق اہم واقعات اکثر راوی کی طویل تشریح کے بجائے کرداروں کے مکالموں کے ذریعے آگے بڑھتے ہیں۔

آلٹر یہاں تک متنبہ کرتے ہیں کہ عبرانی بائبل اور عہدنامۂ جدید کے بیانیوں کو آسانی سے ایک ہی ادبی فریم میں نہیں رکھا جاسکتا، کیونکہ وہ مختلف زبانوں، مختلف ادوار اور بڑی حد تک مختلف ادبی مفروضوں کے تحت وجود میں آئے۔ یہ نکتہ اہم ہے کہ ایک بائبلی نقاد کو خود عبرانی بائبل اور اناجیل ایک ساتھ رکھنا مشکل محسوس ہوتا ہے، جبکہ اسلامی تصور ان دونوں کے ساتھ زبور اور قرآن کو بھی ایک ہی سلسلۂ وحی میں رکھتا ہے۔

زبور پر پہنچیں تو صورت یکسر بدل جاتی ہے۔ یہاں نہ موسیٰ جیسا مسلسل قومی بیانیہ غالب ہے، نہ اناجیل جیسی کسی مرکزی شخصیت کی سوانح اور نہ قرآن جیسا مسلسل الٰہی خطاب۔ زبور بنیادی طور پر مذہبی شاعری ہے۔ اس میں حمد، فریاد، دعا، خوف، امید، شکر، دشمنوں سے نجات کی التجا، خدا کی عظمت اور انسانی بے بسی ہے۔ اس کا بنیادی متکلم انسان اور بنیادی مخاطب خدا ہے۔ یعنی ابلاغ کی سمت ہی قرآن کے مقابلے میں الٹ جاتی ہے۔ قرآن میں خدا انسان سے بولتا ہے جبکہ زبور میں انسان خدا سے بات کرتا ہے۔

آلٹر  اپنی دوسری کتاب دا آرٹ آف ببلیکل پوئٹری میں زبور سمیت بائبلی شاعری کا بنیادی ادبی اصول معنوی مماثلت قرار دیتے ہیں۔ ایک مصرعے کا خیال دوسرے مصرعے میں دوہرایا، بدلا، شدید کیا یا آگے بڑھایا جاتا ہے۔ وہ زبور، نبوی شاعری، حکمت کی شاعری اور عشقیہ شاعری تک کو الگ اصناف سمجھتے ہیں اور انھیں ایک ہی مبہم "بائبلی انداز" میں ضم کرنے سے خبردار کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ زبور میں زبان خود مذہبی تجربے کا وسیلہ بن جاتی ہے۔ دعا کرنے والا، فریاد کرنے والا یا حمد کرنے والا انسان اپنی آواز سے خدا کی طرف بڑھتا ہے، اور نظم میں تکرار، تضاد، صوتی مناسبت، استعارہ اور مخاطب کی تبدیلی معنی پیدا کرتے ہیں۔

اناجیل میں متکلم و مخاطب کا رخ بالکل الگ ہے۔ یہاں بنیادی صورت راوی سے قاری کی ہے۔ عیسیٰ فلاں جگہ گئے، فلاں شخص سے ملے، یہ فرمایا، یہ واقعہ پیش آیا۔ اس بیانیے کے اندر عیسیٰ کبھی شاگردوں، کبھی مجمع، کبھی مخالفین اور کبھی خدا سے مخاطب ہوتے ہیں۔ بررج کے تجزیے میں چاروں اناجیل کی خارجی ساخت قدیم سوانح سے مضبوط مماثلت رکھتی ہے۔ نثری بیانیہ، محدود حجم، عمومی زمانی ترتیب جس میں موضوعاتی مواد داخل ہوسکتا ہے، ایک مرکزی شخصیت پر غیر معمولی ارتکاز اور قصے، اقوال اور خطابات جیسی بنیادی اکائیاں۔ یوں انجیل کا ادبی وجود اس اسلامی تصور سے بہت مختلف ہے جس میں گویا خدا نے عیسیٰ کو ایک کتاب انجیل عطا کردی تھی۔

قرآن چوتھی اور پھر بالکل مختلف ادبی شخصیت پیش کرتا ہے۔ عیسیٰ جے بلاتا کی مرتب کردہ کتاب لٹریری اسٹرکچر آف ریلیجس میننگ ان دا قرآن کے آغاز ہی میں طٰہٰ حسین کا مشہور جملہ نقل کیا جاتا ہے کہ قرآن نہ روایتی نثر ہے نہ شاعری۔ اس کے آیات کے اختتام، صوتی آہنگ اور موسیقیت اسے اپنی مخصوص ادبی شکل دیتے ہیں۔ بلاتا آگے قرآنی ادبی ساخت کے اجزا میں ڈکشن، صوتیات، صرف، نحو، ردھم، بلاغت، تنظیم، انداز، آواز، خطابت، تصویر کشی، صنف اور متکلم تک شمار کرتا ہے۔

قرآن کا بنیادی متکلم خدا ہے، اگرچہ آوازیں بدلتی رہتی ہیں۔ بنیادی مخاطب کبھی محمد، کبھی مومنین، کبھی منکرین، کبھی اہل کتاب اور کبھی عمومی انسان ہیں۔ اس کا ابلاغ خدا سے انسان کی طرف ہے۔ قصے موجود ہیں لیکن بیشتر مکمل آزاد داستانوں کی شکل میں نہیں۔ ایک واقعہ کسی خطیبانہ مقصد کے لیے آتا ہے، رک جاتا ہے، دوسرے موضوع میں تبدیل ہوتا ہے اور کسی دوسری سورت میں نئے زاویے سے دوبارہ نمودار ہوسکتا ہے۔ اس کی لفظیات میں اللہ، رب، آیت، ایمان، کفر، شرک، ہدایت، ضلالت، ظلم، تقویٰ، رحمت، عذاب، جنت، جہنم اور قیامت جیسے الفاظ ایک تھیم کے گرد گھومتے ہیں۔ اس کی تنظیم نہ تورات کی تاریخی پیشرفت ہے، نہ زبور کی نظموں کا مجموعہ، نہ اناجیل کی سوانحی ترتیب۔ بلاتا کی کتاب کے مندرجات بھی اسی تنوع کو ظاہر کرتے ہیں۔

یوں چاروں کتابوں کو ایک مختصر نقشے میں رکھیں تو تورات کی غالب صفت قومی تاریخی بیانیہ اور قانون، بنیادی متکلم راوی، کردار اور مختلف مقامات پر خدا، بنیادی مخاطب اسرائیلی برادری، تنظیم داستانی و قانونی، قصہ مرکزی اور ڈکشن عہد، نسل، زمین، قوم، شریعت اور عبادت کے گرد ہے۔ زبور کی غالب صفت شاعرانہ دعا و حمد، بنیادی متکلم انسان، مخاطب خدا، تنظیم آزاد نظموں کا مجموعہ، قصہ ثانوی اور ڈکشن جذباتی، استعاراتی اور عبادتی ہے۔ اناجیل کی غالب صفت قدیم سوانحی بیانیہ، متکلم راوی اور بیانیے کے اندر عیسیٰ و دوسرے کردار، مخاطب قاری اور اندرونی مناظر میں شاگرد یا مجمع، تنظیم بڑی حد تک عیسیٰ کی زندگی کے گرد، قصہ مرکزی اور ڈکشن تعلیم، بادشاہی، ایمان، شاگردی، معجزات، تمثیل اور نجات کے گرد ہے۔ قرآن کی غالب صفت اعلانیہ، خطیبانہ اور جدلیاتی کلام، غالب متکلم خدا، مخاطب متغیر، تنظیم سورتوں اور موضوعاتی اکائیوں کی، قصہ استدلال اور تنبیہ کا وسیلہ، اور ڈکشن توحید، ایمان، کفر، آیات، ہدایت، عذاب اور آخرت کے گرد ہے۔

تو پھر ایک ہی خدا کی چاروں کتابوں میں اتنا اختلاف کیوں ہے؟ اس کا روایتی اسلامی جواب "تحریف" ہے۔ یعنی اصل تورات، زبور اور انجیل واقعی خدائی کلام تھے لیکن موجودہ یہودی و مسیحی متون اپنی اصل صورت میں محفوظ نہیں رہے۔ لیکن اس دعوے کے ساتھ دو مسائل ہیں۔ پہلا یہ کہ خود قرآن میں تحریف کے مفہوم کی تعبیر سادہ نہیں۔ جدید تحقیق میں اختلاف ہے کہ متعلقہ مقامات متن بدلنے، الفاظ کو سیاق سے ہٹانے، غلط تعبیر کرنے یا زبانی طور پر معنی بگاڑنے میں سے کس چیز پر دلالت کرتے ہیں۔ منعم سری نے اپنی کتاب اسکرپٹورل پولمکس دا قرآن اینڈ ادر ریلیجنز میں دکھایا ہے کہ خود مسلم مفسرین بھی اس سوال پر یکساں موقف نہیں رکھتے۔ قرآن بعض مقامات پر سابقہ صحائف کے الٰہی ماخذ کو تسلیم کرکے اپنے مخاطبین کو ان صحائف یا اہل کتاب کی طرف رجوع کرنے کو بھی کہتا ہے، جبکہ دوسرے مقامات بعد کی اسلامی تحریف کی بحث کی بنیاد بنے۔

دوسرا مسئلہ زیادہ مادی ہے۔ ہمارے پاس اسلام سے کئی صدیاں پہلے کے بائبلی مخطوطات موجود ہیں۔ بحیرۂ مردار کے طومار، تیسری صدی قبل مسیح سے پہلی صدی عیسوی تک عبرانی بائبل کے مختلف متون دکھاتے ہیں۔ ان میں معمولی اختلافات واقعی موجود ہیں۔ قدیم بائبلی متن کسی ایک حرف بہ حرف جامد نسخے کی صورت میں منتقل نہیں ہوا۔ لیکن یہی مخطوطات ہمیں اس کی منتقلی کی تاریخ بھی دکھاتے ہیں۔ علمی تنقید کا نتیجہ "ایک اصل کتاب کو مسلمانوں سے پہلے بدل کر بالکل دوسری کتاب بنادیا گیا" نہیں بلکہ متعدد قدیم نسخوں، نقل کی تبدیلیوں اور بتدریج معیاری نسخہ بنانے کی تاریخ ہے۔

عہدنامۂ جدید کی متنی تنقید بھی ابتدائی مخطوطات، قدیم تراجم اور ابتدائی مسیحی مصنفین کے اقتباسات کی مدد سے متون کا مطالعہ کرتی ہے۔ اس لیے کسی جامع، دانستہ، قبل از اسلام تحریف کو ایسا تاریخی واقعہ سمجھنا جس نے اصل تورات، زبور یا انجیل کی ادبی نوعیت ہی بدل دی، دستیاب شواہد سے ثابت نہیں ہوتا۔

بلکہ زبور اور اناجیل ایک زیادہ بنیادی مشکل پیدا کرتے ہیں۔ اگر قرآن کا دعویٰ "زبور داؤد پر اتاری گئی" ایک الٰہی کتاب اور "انجیل عیسیٰ کو دی گئی کتاب" ہے تو یہ تصورات موجودہ زبور اور اناجیل کی حقیقی ادبی صورتوں سے پوری طرح مطابقت نہیں رکھتے۔ زبور مختلف ادوار اور مختلف آوازوں کی نظموں کا مجموعہ ہے، جبکہ اناجیل عیسیٰ کی طرف سے لکھی یا ان پر نازل ہوئی کتابیں نہیں بلکہ عیسیٰ کے بارے میں لکھی گئی چار کتابیں ہیں۔

یعنی قرآن میں زبور اور انجیل کا تصور ان متون کی اس ادبی صورت سے مختلف ہے جسے یہودی اور مسیحی روایت اور موجود مخطوطات ہمارے سامنے رکھتے ہیں۔ یہ فرق اتنا بنیادی ہے کہ اسے محض نقل کی چند غلطیوں یا تحریف کہہ کر سمجھانا مشکل ہے۔

یہاں مشترک قصوں کا مسئلہ بھی آتا ہے۔ آدم، نوح، ابراہیم، یوسف یا موسیٰ کا تورات اور قرآن دونوں میں ہونا کسی مشترک "مصنف" کا ثبوت نہیں۔ دو متون میں مشترک مواد کتابوں کے متون کے یکساں موضوع کا ثبوت ہوسکتا ہے، مشترک مصنف کا نہیں۔ آج قرآنی مطالعات میں بائبلی اور قرآنی روایت کے قریبی تعلق پر وسیع اتفاق ہے۔ بحث یہ ہے کہ قرآن کا تعلق براہ راست تحریری بائبل سے کتنا تھا اور یہودی، مسیحی، ربانی اور سریانی زبانی روایات سے کتنا۔ بعد کا متن پہلے سے موجود کہانی کو لے سکتا ہے، مختصر کرسکتا ہے، نئے مذہبی متن میں ڈھال سکتا ہے اور نئے تبلیغی مقصد کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔ لہٰذا موسیٰ دونوں جگہ ہونے سے وہی بات ثابت ہوتی ہے جو ایک بعد کے ادبی متن میں کسی قدیم داستان کی موجودگی سے ثابت ہوتی ہے۔ یعنی روایت نقل کی گئی، نہ کہ لازماً مصنف ایک تھا۔

اس اختلاف سے منطقی طور پر یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ایک خدا مختلف زمانوں میں مختلف اصناف میں کلام نہیں کرسکتا۔ ایسا دعویٰ اصولاً ناقابل آزمائش ہوسکتا ہے۔ خدا چاہے تو ایک قوم کو قانون، دوسرے انسان کو شاعری، تیسرے ماحول کو سوانحی روایت اور چوتھے کو خطیبانہ متن دے سکتا ہے۔ لیکن پھر مشترک الٰہی مصنف کا ادبی استدلال بھی کمزور ہوجاتا ہے۔ اگر ہر نمایاں اختلاف کو مختلف زمانے، زبان، مخاطب اور مقصد سے سمجھایا جائے تو متون کے اندر ایسی مستقل ادبی انفرادیت باقی نہیں رہتی جس کی بنیاد پر ایک غیر جانبدار قاری صرف ادبی شواہد سے انھیں ایک مصنف کا کلام قرار دے سکے۔

ادبی مطالعہ اس لیے خدا کے وجود یا عدم وجود کا فیصلہ نہیں کرتا۔ وہ صرف ایک محدود لیکن اہم مشاہدہ پیش کرتا ہے۔ یعنی تورات، زبور، اناجیل اور قرآن کو ان کے اپنے تاریخی اور ادبی ماحول میں پڑھا جائے تو وہ ایک کتاب کے چار ایڈیشن نہیں، نہ ایک مصنف کی پہچانی جانے والی آواز کے چار واضح نمونے ہیں، بلکہ چار نہایت مختلف قسم کے ادبی مظاہر دکھائی دیتے ہیں۔ انھیں ایک ہی فہرست میں "چار آسمانی کتابیں" قرار دینے والی وحدت بنیادی طور پر بعد کے اسلامی مذہبی تصور سے آتی ہے۔ ان کی صنف، ساخت، متکلم، مخاطب، ڈکشن اور ابلاغی سمت کا آزاد ادبی مطالعہ انھیں ایسی درجہ بندی تک نہیں پہنچاتا۔


References

قرآن مجید

عہدنامہ قدیم

عہدنامہ جدید

The Art of Biblical Narrative by Robert Alter
The Art of Biblical Poetry by Robert Alter
What Are the Gospels? A Comparison with Graeco-Roman Biography by Richard A. Burridge
Literary Structures of Religious Meaning in the Qur’an, edited by Issa J. Boullata
Scriptural Polemics: The Qur’an and Other Religions by Mun’im Sirry
The Early Text of the New Testament, edited by Charles E. Hill and Michael J. Kruger
The Oxford Handbook of the Dead Sea Scrolls, edited by John J. Collins and Timothy H. Lim