فکشن
روسی افسانہ، باہر بارش ہورہی ہے
عمارت کے اندر بھی لوگ کھلی چھتریاں لیے پھرتے ہیں، لیکن وہ یہ نہیں کہتے، یہاں بارش ہو رہی ہے، وہ کہتے ہیں، باہر بارش ہو رہی ہے
فکشن
عمارت کے اندر بھی لوگ کھلی چھتریاں لیے پھرتے ہیں، لیکن وہ یہ نہیں کہتے، یہاں بارش ہو رہی ہے، وہ کہتے ہیں، باہر بارش ہو رہی ہے
فکشن
مجھے یاد آیا کہ میں رات کو گھر میں تنہا اپنی کمسن بیٹی کے کی کھڑکی کا پردہ گرانا بھول گئی تھی، لیکن میں پارٹی میں جانے کے لیے آدھے گھنٹے کی مسافت پر پہنچ چکی تھی
فکشن
ماں کو ساتھ لے جانے کے لیے راضی کرتے ہوئے اسے وہی احساس ہوا جو بچپن میں اس وقت ہوا تھا جب وہ ذبح ہونے کے لیے لائی جانے والی بھیڑ کو پرسکون کرنے کی کوشش کررہا تھا
فکشن
اس کے اور ترک ملاح کے درمیان کچھ بھی مشترک نہیں تھا، سوائے اس کے کہ وہ اس کی طرف کھنچی چلی گئی تھی، وہ اس کی طرف مائل تھا، اور دونوں نے ایک کمرے میں رات گزاری
فکشن
سوئمنگ پول سے پانی کھینچتے ہوئے مجھے ایک سایہ دکھائی دیا، وہ ایک جسم تھا، جو سیڑھیوں سے چپکا ہوا تھا، بارش اور پانی سے اس کی کھال پھول چکی تھی
فکشن
وہ کمرے میں داخل ہوا تو اس نے اپنی بیوی کو ایک دوسرے مرد کے ساتھ بستر پر دیکھا، ایک لمحے کو وہ پتھر کا بت بن گیا، اس کی بیوی نے، حیرت انگیز طور پر گھبراہٹ نہیں دکھائی
فکشن
قصبے میں ایک ایسی جگہ پر جہاں کچھ بھی خاص نہیں تھا، لیکن جو اب ایک زیارت گاہ بن چکی ہے، ریچھ نے کہا، "یہیں،" اور اسے لانے والی گاڑی کا انجن بند ہوگیا
فکشن
ایک بچہ سڑک پر رو رہا تھا، اس کی خوف زدہ ماں اسے روک رہی تھی، وہ ماں کے ہاتھ پر کاٹ کر اس سے جدا ہونے میں کامیاب ہوا اور جلوس میں شامل ہوتے ہی خاموش اور پرسکون ہوگیا
فکشن
محلے کے تقریباً ہر گھر میں ان کی کوئی نہ کوئی سہیلی ضرور تھی، معلوم نہیں ان میں ایسی کیا کشش تھی کہ عورتیں ان سے دوستی قائم کرنا چاہتی تھیں
فکشن
ہم سب قسمت کے ہاتھوں کی کٹھ پتلیاں ہیں، اور قسمت خود پیسے کی کٹھ پتلی ہے، اور ممکن ہے کہ پیسہ بھی کسی اور کے ہاتھ میں کھیل رہا ہو
فکشن
چھوٹے بچے گھر جاکر اپنی ماؤں سے کہتے ہیں کہ "وہ عورت، جس نے نہ زیرجامہ پہن رکھا ہے نہ کچھ اور" پھر سے باہر آگئی ہے، اس پر مائیں انھیں دوبارہ باہر جانے سے منع کردیتی ہیں
فکشن
تین سال پہلے میرے خالو اور دونوں ماموں شکار کھیلنے گئے تھے، وہ کبھی واپس نہیں آئے، خالہ سمجھتی ہیں کہ ایک دن ضرور واپس آئیں گے، اس لیے یہ کھڑکی کھلی رکھتی ہیں
کچھ لکھیں...