کیا علم الرجال واقعی کوئی علم ہے، راویوں کو جانچنے والوں کو کیسے جانچا جائے؟

رجال کے ناقدین کی بڑی نسل تیسری صدی ہجری میں سامنے آئی، ایک ہی راوی کو مختلف ماہرین نے مختلف درجے دیے، ہم عصر علما نے ایک دوسرے پر بھی اعتراض کیا

کیا علم الرجال واقعی کوئی علم ہے، راویوں کو جانچنے والوں کو کیسے جانچا جائے؟