عالمی دہشت گردی کا بدترین واقعہ، 11 ستمبر 2001 کو میری لکھی ہوئی تحریر

ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں میں ہوسکتی ہے لیکن کسی خبر رساں ادارے نے محتاط سے محتاط اندازہ بھی نہیں لگایا، روزنامہ ایکسپریس سنڈے میگزین کی ٹائٹل اسٹوری

عالمی دہشت گردی کا بدترین واقعہ، 11 ستمبر 2001 کو میری لکھی ہوئی تحریر

"واہ، کیا نظارہ ہے!
خواتین و حضرات! دیوہیکل طیارہ بادلوں کا سینہ چیرتا ہوا بڑھتا آرہا ہے۔ اس کی سحر انگیز رفتار کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ یہ ایک یادگار، بہت یادگار پرواز ثابت ہوگی۔۔۔
اوہ۔۔۔ اوہ۔۔۔ آہ۔۔۔ آں۔۔۔ اس میں آگ لگ گئی ہے۔۔۔ او میرے خدا۔۔۔ شعلے۔۔۔ اف! کس قدر تکلیف دہ منظر ہے۔"

امریکا کے ریڈیو جرنلسٹ ہربرٹ موریسن کی یہ کمنٹری آواز کی دنیا کا قیمتی اثاثہ سمجھی جاتی ہے۔ وہ 6 مئی 1937 کو مسافر بردار جرمن جہاز سینڈزبرگ کی نیوجرسی آمد کا آنکھوں دیکھا حال بیان کررہے تھے کہ طیارے کو ہولناک حادثہ پیش آگیا۔ اس وقت پورا امریکا ان کی آواز سن رہا تھا۔
64 سال بعد ایک بار پھر پورا امریکا دم بخود ہوکر ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے شمالی ٹاور سے اٹھتا دھواں ٹیلی وژن پر براہ راست دیکھ رہا تھا کہ اچانک دوسرا طیارہ نمودار ہوا۔
لیکن یہ ہوا کیا؟
بس ایک جھٹکا لگا اور دنیا کی واحد سوپرپاور کی فلک بوس عمارتیں، مضبوط و مستحکم معیشت، دیوہیکل طیارے، بلند و بانگ دعوے، غرور، زعم اور بھرم، سب کچھ زمین پر آگیا، سب ڈھیر ہوگیا۔
لیکن یہ تھا کیا؟
مقدس جنگ، دہشت گردی، وحشت، جنون، پاگل پن، مکافات عمل یا ظلم کا انتقام؟
لیکن یہ تھا کون؟
اسامہ بن لادن، یاسر عرفات، صدام حسین، حماس، چیچن جانباز، طالبان، ہٹلر کے نازی پجاری، ہیروشیما کو نہ بھولنے والے جاپانی، آئرش انتہاپسند، روس، چین یا میزائل ڈیفنس شیلڈ کے مخالفین؟
کوئی نہیں جانتا۔ شاید کوئی کبھی نہ جان سکے۔
منگل 11 ستمبر کو امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے سب سے پہلے دنیا کو بتایا کہ ایک طیارہ غالباً اندازے کی غلطی کے باعث ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ایک ٹاور سے ٹکراگیا ہے۔ اندازے کی غلطی دراصل سی این این سے ہوئی تھی۔ بہرحال اس نے نیویارک کے قلب میں ہونے والے دھماکے کی گونج دنیا کے آخری کونے تک پہنچادی۔ یہ عظیم تباہی کا نقطہ آغاز تھا۔ کچھ دیر بعد دوسرا طیارہ فول پروف انتظامات کی اصطلاح متعارف کرانے والی انتظامیہ کا منہ چڑاتا ہوا ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے دوسرے ٹاور میں گھس گیا۔ امریکی صدر نے اعلان کیا کہ ہم نے دفاعی حکام کو چوکس کردیا ہے۔ ان کے بیان کے صرف تین منٹ بعد تیسرا طیارہ محکمہ دفاع ہی کے ہیڈکوارٹر پر گرگیا۔ اس دوران ورلڈ ٹریڈ سینٹر کا ایک ٹاور زمیں بوس ہونے کی اطلاع آئی۔ پھر دفتر خارجہ کے باہر کار بم دھماکا ہوا۔ دیر نہ گزری تھی کہ چوتھا طیارہ پنسلوانیا میں تباہ ہوگیا۔ آخر ورلڈ ٹریڈ سینٹر کا دوسرا ٹاور بھی لڑکھڑاکر گرگیا اور ٹیلی وژن تاریخ کا سب سے ہولناک ڈراما اپنے انجام کو پہنچا۔
پے در پے حملوں کا زور ٹوٹا اور بری خبروں کی دھند چھٹی تو واضح ہوا کہ نامعلوم افراد نے نیویارک کے وقت کے مطابق صبح 8 بجے امریکا میں مختلف مقامات سے 4 طیارے بیک وقت ہائی جیک کرلیے تھے۔ غیر معمولی منصوبہ بندی سے طیارے اغوا کرنے والوں نے غیر معمولی مہارت سے اپنے اہداف کو نشانہ بنایا۔
سب سے پہلے امریکن ایئرلائنز کا بوئنگ 767 ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے شمالی ٹاور سے ٹکرایا۔ بوسٹن سے لاس اینجلس کے لیے روانہ ہونے والے طیارے میں 81 مسافر اور عملے کے 11 افراد سوار تھے۔ 18 منٹ بعد اسی کمپنی کا بوئنگ 757 دوسرے ٹاور میں جاگھسا۔ یہ طیارہ واشنگٹن سے لاس اینجلس کے لیے اڑا تھا اور اس میں 58 مسافر اور عملے کے 6 افراد سوار تھے۔ پینٹاگون پر گرنے والا تیسرا طیارہ یونائیٹڈ ایئرلائنز کا تھا جس میں 56 مسافر اور عملے کے 9 افراد سوار تھے۔ یہ طیارہ بوسٹن سے لاس اینجلس جارہا تھا۔ پنسلوانیا میں تباہ ہونے والا بوئنگ 747 بھی یونائیٹڈ ایئرلائنز کا تھا۔ نیوجرسی سے سان فرانسسکو جانے والے اس طیارے میں 45 افراد سوار تھے۔
تمام طیارے امریکا کے انتہائی مشرق سے اڑے تھے اور انھیں انتہائی مغربی شہروں تک پہنچنا تھا اس لیے مکمل طور پر ایندھن سے بھرے ہوئے تھے۔ عام حالات میں کوئی طیارہ حادثے کا شکار ہوتا تو شاید زیادہ تباہی نہ ہوتی لیکن 24 ہزار گیلن (91 ہزار لیٹر) تیل سے بھرے طیارے انتہائی تیز رفتاری سے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے قلب میں گھسے تو کنکریٹ اور فولاد بھی پگھل گیا اور ڈیڑھ گھنٹے میں دونوں ٹاور زمیں بوس ہوگئے۔ اس کے بعد پورے علاقے میں دھوئیں، راکھ اور گردوغبار کا طوفان پھیل گیا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ طیاروں کے ٹکرانے اور ٹاورز کے گرنے سے قبل بہت سے افراد نے خوفزدہ ہوکر عمارت کی کھڑکیوں سے چھلانگ لگادی تھی۔
خودکش حملوں کے بعد پورے امریکا میں ہنگامی حالت دیکھنے کو ملی۔ فوری طور پر تمام پروازیں معطل کردی گئیں، سرکاری عمارتیں خالی کروالی گئیں، واشنگٹن اور نیویارک سے عوام بڑے پیمانے پر نقل مکانی کرگئے، موبائل فون سروس بند کردی گئی اور لاتعداد ویب سائیٹس جام ہوگئیں۔ افواج کو انتہائی چوکس کرکے سرحدیں بند کردی گئیں اور فضائیہ کے سیکڑوں جنگی طیارے ہنگامی طور پر فضا میں پہنچ گئے۔ انھیں ہدایت کی گئی کہ کسی بھی مشکوک طیارے کو مار گرانے کے لیے تیار رہیں۔ اس طرح امریکا نے جنگ کا اعلان کردیا۔ لیکن ایسی جنگ آج تک کسی نے نہیں لڑی۔ امریکی افواج تو چوکس ہیں لیکن کوئی نہیں جانتا کہ ان کا حریف کون ہے۔ نادیدہ دشمن کو بھلا کون ڈھونڈ سکتا ہے؟ سائے سے کون لڑسکتا ہے؟
تباہی کے بعد سب سے بڑا سوال تھا کہ تمام واقعات میں کتنے افراد ہلاک ہوئے۔ 110 منزلہ عمارت کا ملبہ ہٹاکر لاشیں گننے کے لیے کئی ہفتے درکار ہوں گے۔ ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں میں بتائی گئی لیکن کسی امریکی خبر رساں ادارے نے محتاط سے محتاط اندازہ بھی نہیں لگایا۔ پینٹاگون میں 800، چاروں طیاروں میں 266، ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں آگ بجھانے کی کوشش کرنے والے 300 کارکن اور 85 پولیس اہلکار یقینی طور پر جان گنواچکے ہیں۔ پہلا جہاز ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرایا تو اس وقت اس میں ہزاروں افراد موجود تھے۔ انھیں فوراً نکلنے کی ہدایت کردی گئی تھی لیکن برقی نظام متاثر ہونے اور لفٹیں جام ہونے کے سبب اونچی منزلوں کے لوگوں کے بچنے کی امید نہیں۔
جڑواں ٹاورز کا ملبہ گرا تو قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے برابر میں 47 منزلہ سالومن برادرز بلڈنگ بھی مسمار ہوگئی جبکہ نسبتاً چھوٹی عمارتوں کے نقصان کا اندازہ ہی نہیں لگایا جاسکتا۔ تباہی کا اثر عالمی معیشت پر بھی پڑا اور دنیا بھر کی حصص منڈیاں متاثر ہوئیں۔ امریکا میں تمام کاروبار بند ہوگیا اور سونے کی قیمتیں گرگئیں جبکہ فوری ردعمل کے طور پر عالمی مارکیٹ میں خام تیل کے نرخ بڑھ کر 30 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے۔
حملوں کے بعد ذہنوں میں ایک نام ابھرا، اسامہ بن لادن۔ بعض ذرائع ابلاغ ضبط نہیں کرسکے اور انھوں نے اپنے شکوک و شبہات کا اظہار کرنا شروع کردیا۔ اس شبے کو لندن سے شائع ہونے والے عربی جریدے القدس العربیہ کے مدیر عبدالباری عتوی نے یہ کہہ کر تقویت پہنچائی کہ اسامہ نے 3 ہفتے قبل امریکا پر غیر متوقع حملے کی دھکمی دی تھی۔ طالبان انتظامہ نے فوری طور پر حالات سنبھالنے کی کوشش کی اور اسلام آباد میں افغان سفیر ملا ضعیف نے واضح الفاظ میں کہا کہ اتنی بڑی کارروائی اسامہ کے بس کی بات نہیں۔ اس کے باوجود مغرب کی بدگمانی دور نہیں ہوئی۔
ابتدائی تحقیقات سے واضح ہوا ہے کہ طیاروں کو ہائی جیک کرنے والوں کی تعداد کم از کم 7 تھی جن میں سے 5 بوسٹن ایئرپورٹ سے سوار ہوئے۔ یہ پانچوں عرب باشندے تھے اور 2 کے پاس متحدہ عرب امارات کا پاسپورٹ تھا۔ یہ دونوں سگے بھائی تھے اور ایک تربیت یافتہ پائلٹ تھا۔ ان کی کار سے جہاز اڑانے سے متعلق کتاب بھی ملی ہے۔ امریکی حکام کا خیال ہے کہ پورے منصوبے میں تقریباً 30 افراد شامل ہوں گے اور تحقیقات کی کڑیاں آخر میں جاکر اسامہ بن لادن سے مل جائیں گی۔
حملوں کے بعد بعض عرب ممالک میں خوشی منائی گئی۔ خاص طور پر فلسطینی پناہ گزینوں نے اظہار مسرت کیا۔ ممکن ہے کہ دوسرے ملکوں میں بھی کچھ لوگ خوش ہوئے ہوں۔ لیکن بے گناہ انسانوں کی جان ضائع ہونے پر خوشی کا اظہار چہ معنی؟ دہشت گردی کے شکار لوگوں کو دہشت گردی پر جشن نہیں منانا چاہیے۔


میرا یہ آرٹیکل 16 ستمبر 2011 کو روزنامہ ایکسپریس کراچی کے سنڈے میگزین میں شائع ہوا تھا۔

میں نے اس مضمون کے لیے سی این این، بی بی سی، رائٹرز، اے پی اور اے ایف پی کی رپورٹس پر انحصار کیا تھا۔ اسے پڑھ کر پتا چلتا ہے کہ ذرائع ابلاغ پہلے دن کیا سوچ رہے تھے اور ابتدائی تحقیقات سے کیا معلوم ہوا تھا۔