فکشن
ارجنٹینا کا افسانہ، ٹرالی
وہ ٹرالی پوری رات شیلفوں کے درمیان راہداریوں میں گھومتی رہتی تھی، ایک ستارے کی طرح خاموش اور دھیمی، کبھی کسی چیز سے ٹکراتی نہیں تھی، اور کبھی رُکتی نہیں تھی
فکشن
وہ ٹرالی پوری رات شیلفوں کے درمیان راہداریوں میں گھومتی رہتی تھی، ایک ستارے کی طرح خاموش اور دھیمی، کبھی کسی چیز سے ٹکراتی نہیں تھی، اور کبھی رُکتی نہیں تھی
فکشن
ایک یتیم لڑکے نے، جو نو یا دس برس کا تھا، شرارتاََ سیڑھیوں پر کھڑے ہوکر تازہ رنگی ہوئی ریلنگ کے اوپر ایک پروں والا تکیہ پھاڑ دیا، پر ہوا میں تیرتے ہوئے نیچے آئے اور تازہ رنگ سے چپک گئے
فکشن
اس کا نام پروانہ ہے اور وہ کتابیں لکھتی ہے، اس کا نام بینظیر ہے اور لوگ اسے بینی کہتے ہیں، اس کا نام یسریٰ ہے، وہ شام سے، ترکی سے، یونان سے، فرانس گئی، اس کا نام نورجان ہے اور وہ ایک نظم بن گئی
فکشن
گاؤں پہنچنے پر اس نے ایک بھینس کو کھیت کے کنارے گھاس چرتے دیکھا تو چیخ کر کہا، ستاسی روپے، چار آنے، اور دلال کے دس پیسے
فکشن
شیاوہو رات بھر روتا رہا، وہ تب خاموش ہوا جب صبح کا اجالا پھیلا، میرے بہنوئی نے کہا، شاید والد تمھارے ساتھ یہاں آگئے تھے، رات بھر وہ شیاوہو کے ساتھ کھیلتے رہے ہوں گے
فکشن
اسے یقین نہیں آرہا تھا، رابرٹ اتنا بے حس ہوسکتا ہے کہ اسی صبح، لاش ٹھنڈی ہونے سے پہلے ہی، اس کا سامان سمیٹنا شروع کردے
فکشن
باپ چار سال تک سوتا رہا، ماں تاریخی سفر سے واپس نہیں آئی تھی، ملک دشمنوں سے حالت جنگ میں تھا، بچوں نے امید ظاہر کی کہ جنگ ختم ہوگی تو انھیں کچھ کھانے کو مل سکے گا
فکشن
میں اسم واحد تھا، ایک لڑکا، کیونکہ میں اپنی نسل کے ایک نمونے کا اظہار تھا، لیکن اب گرامر کے لحاظ سے میری حیثیت وہ نہیں رہی، میں تجریدی اسم بن چکا ہوں
فکشن
میں ہمیشہ کی طرح محتاط ہوکر وہاں سے گزری، وہ باہر نکلا اور مجھے دکان میں آکر بات کرنے کو کہا، میں نے انکار نہیں کیا، میں جانتی تھی کہ وہ کیا چاہتا ہے
فکشن
شہری نے میز پر زور سے مکا مارا اور چلا کر کہا کہ میں ایک شہری ہوں، مجھے اپنے حقوق کا علم ہے، یہ ایک جمہوری ریاست ہے، کوئی مذاق نہیں ہے، میں تمھارے سوپروائزر سے بات کرنا چاہتا ہوں
فکشن
اچانک ڈرائیور کو یاد آیا کہ کیسے اس نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ خدا بنا تو بہت مہربان اور رحیم ہوگا اور اپنی تمام مخلوقات کی دعائیں سنے گا
فکشن
جوزفین بند دروازے کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھی کنڈی کے سوراخ سے منہ لگا کر التجا کررہی تھی، لوئیس، خدا کے لیے دروازہ کھولو، تم اپنی طبیعت خراب کرلو گی
کچھ لکھیں...