طبع زاد
فہمیدہ ریاض سے آخری ملاقات
میں دو تین کتابیں ساتھ لے کر گیا تھا، ایک کا نام تم کبیر تھا، ادیب دوسروں کے ہاتھ میں اپنی کتابیں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، وہ میرے ہاتھ میں کتاب دیکھ کر افسردہ ہوئیں
طبع زاد
میں دو تین کتابیں ساتھ لے کر گیا تھا، ایک کا نام تم کبیر تھا، ادیب دوسروں کے ہاتھ میں اپنی کتابیں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، وہ میرے ہاتھ میں کتاب دیکھ کر افسردہ ہوئیں
طبع زاد
قدیم شہر میں سو لوگوں سے پوچھا، پچانوے کو معلوم نہیں تھا، باقی پانچ نے لاہوریوں والی حرکت کی، یعنی ایویں ای ایک طرف ہاتھ اٹھادیا اور ہم بھٹکتے پھرے
طبع زاد
افریقی مسافروں میں ایک عجیب روایت دیکھی، جہاز لینڈ کرتا ہے تو سب تالیاں بجاتے ہیں، جیسے پائلٹ نے کوئی کارنامہ انجام دیا ہو
طبع زاد
کئی طرح کی روٹی، کیک، طرح طرح کے پکوان، پانچ سات اقسام کی مچھلی، زیتون، پنیر، دودھ، جوس، کافی، چائے، پھل، اتنا کچھ کہ پیٹ بھر جائے، نیت نہ بھرے
طبع زاد
ساٹھ لاکھ میں سے انچاس لاکھ مقتولین کے نام اور بہت سوں کی تصویریں اور تفصیلات تلاش کرلی گئی ہیں، گیارہ لاکھ کے نام تک نہیں معلوم، بہت سی بستیاں مکمل طور پر صفحہ ہستی سے مٹ گئیں
طبع زاد
نمستے ریسٹورنٹ کے مالک انڈین یہودی ہیں جو چار عشرے پہلے اسرائیل آ بسے، ان کے باورچی دہلی کے سکھ تھے، انھوں نے بتایا کہ اسرائیل میں بہت زیادہ ہندوستانی ہیں اور ملازمت کے لیے مزید آتے جارہے ہیں
طبع زاد
عمارت کے اندر جاکر حیرت ہوئی، وہاں تو کچھ بھی نہ تھا، ایک چٹان کے اوپر سونے کا گنبد بنا ہوا ہے، نیچے چاروں طرف لکڑی کی باڑھ لگائی ہوئی ہے تاکہ لوگ چٹان پر نہ چڑھیں
طبع زاد
نوجوان نے کہا، اس کمپاونڈ میں چھ مساجد ہیں، جو اقصیٰ کے نام سے مشہور ہے، وہ دراصل مسجد قبلی ہے، اس کے ایک جانب مسجد براق ہے، وہاں رسول اللہ نے اپنا پروں والا گھوڑا کھڑا کیا تھا
طبع زاد
ہم جفا گیٹ سے شہر میں داخل ہوئے جسے مسلمان باب الخلیل کہتے ہیں، اس دروازے کی پیشانی پر عجیب کلمہ لکھا ہوا ہے، لا الہ الا اللہ، ابراہیم خلیل اللہ
طبع زاد
یروشلم کی کئی سوغاتوں میں سے ایک اس کا حلوہ ہے، ایک دکان میں دسیوں اقسام کے حلوے موجود تھے، دعوت عام تھی کہ سب ذائقے باری باری چکھیں اور جو پسند آئے، وہ گھر لے جائیں
طبع زاد
امت لاوی نے کہا، ہم پاکستان کو دشمن نہیں سمجھتے، ہم ایرانی عوام کو بھی دشمن نہیں سمجھتے۔ ایرانی رجیم ہمارا اصل دشمن ہے، ہم اسے صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے ہرممکن قدم اٹھائیں گے
طبع زاد
کولمبس میں سب سے بڑا مسئلہ کھانے کا تھا، تقریبا سبھی فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس کا کھانا چکھا، ایک دن دیسی کھانے کے لالچ میں انڈین ریسٹورنٹ گھس گیا، قیمتیں دیکھ کر چودہ طبق روشن ہوگئے
کچھ لکھیں...