تہران کی سڑکوں پر ستمبر کی وہ رات
کمانڈر بظاہر خیرخواہی سے کہتا ہے، خانم اپنا اسکارف سر پر ڈال لیجیے، میں کہتی ہوں، میرا اسکارف کہیں سڑکوں پر گر گیا ہے، میرے پاس پہننے کو کچھ نہیں
کمانڈر بظاہر خیرخواہی سے کہتا ہے، خانم اپنا اسکارف سر پر ڈال لیجیے، میں کہتی ہوں، میرا اسکارف کہیں سڑکوں پر گر گیا ہے، میرے پاس پہننے کو کچھ نہیں
کچھ لکھیں...