طبع زاد
کربلا میں مشہد حسین، تلہ زینبیہ اور خیمہ گاہ کی زیارات
یہ جو کربلا پہنچ کر چلنا دشوار ہورہا ہے، نہ جانے اس زمین میں کتنے خنجر، کتنی تلواریں، کتنی کمانیں دفن ہیں، وہ تیر بھی تو یہیں ہوگا جس نے چھ مہینے کے علی اصغر کو ذبح کیا تھا
طبع زاد
یہ جو کربلا پہنچ کر چلنا دشوار ہورہا ہے، نہ جانے اس زمین میں کتنے خنجر، کتنی تلواریں، کتنی کمانیں دفن ہیں، وہ تیر بھی تو یہیں ہوگا جس نے چھ مہینے کے علی اصغر کو ذبح کیا تھا
طبع زاد
میں نے بین الحرمین فاصلہ تو نہیں ناپا لیکن کربلا میں بھی اتنی ہی پیاس پائی جتنی اسمٰعیل کو لگی ہوگی اور بے قراری اتنی ہی دیکھی جتنی صفا اور مروہ کے درمیان دوڑی ماں کو ہوگی
طبع زاد
بازار شام کی سب دکانیں کھلی ہوئی تھیں اور کئی دکان دار ماتمیوں کو دیکھ کر ہنس رہے تھے، لگتا تھا کہ چودہ سو سال میں بھی کچھ نہیں بدلا
طبع زاد
ایک ہاتھ کے ماتم کا ایک قاعدہ ہے، نوحے کے ایک بند پر ماتم دھیما رہتا ہے، دوسرے بند پر شدت آجاتی ہے، اس شدت کو کراچی کی زبان میں ڈیڑھ اٹھانا کہتے ہیں
طبع زاد
ایک دن منہ اندھیرے نذر بھائی گھر سے نکلے اور حسب معمول اخبار اٹھانے کے لیے واٹرپمپ پہنچے، تین چار موٹر سائیکلوں پر دہشت گرد آئے، ان میں سے ایک نے ان پر فائرنگ کردی
طبع زاد
علامہ صاحب منبر پر تاریخ پڑھتے، اسے دلچسپ انداز میں سناتے، آواز سے منظر کشی کرتے، باڈی لینگویج سے سمجھاتے، پھیکا سیٹھا خطاب نہیں ہوتا تھا، مکمل پرفارمنس ہوتی تھی
طبع زاد
لیجینڈری حیثیت والے سچے بھائی کے کئی نوحے پاکستانی شیعوں کا گویا قومی ترانہ بن گئے، کوئی بھی انجمن ہو، کوئی بھی جلوس ہو، ان کے نوحے پڑھے جاتے ہیں
طبع زاد
ایک بار میں نے علامہ صاحب سے اپنی گمراہی کا ذکر کیا، انھوں نے ڈانٹنے کے بجائے علمی گفتگو شروع کردی کہ اگر گمراہ ہونا ہے تو ٹھیک طرح سے ہوجاؤ، ادھورا علم کسی کام کا نہیں ہوتا
طبع زاد
سینئر پروڈیوسر نے آواز لگائی، بُوٹے! میں نے بتایا کہ بُوٹا نہیں ہے، انھوں نے دریافت کیا، پھر کون ہے؟ میں نے جواب دیا، برگد کا درخت ہے
طبع زاد
خالد ایچ خان نے دی نیوز کے بعد ڈان میں کام کیا، میں پریس بکس میں دیکھتا کہ اچھے اچھے رپورٹر اپنی رپورٹ فائل کرنے سے پہلے انھیں کاپی دکھاتے تھے
طبع زاد
میں روز خواب میں دیکھتا تھا کہ ٹیسٹ ڈیبو پر گیری سوبرز کے 365 رنز کی اننگز اور جم لیکر کی ایک ٹیسٹ میں 19 وکٹوں کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا ہے
طبع زاد
میں سہرا باندھے بیٹھا تھا کہ عدنان نے پانچ روپے والے نوٹوں کا ہار گلے میں ڈال دیا، خوب قہقہے لگے، میں نے کہا، تیری شادی پر یہی کروں گا، عدنان نے شادی اتنی دیر سے کی کہ پانچ کے نوٹ ہی بند ہوگئے
کچھ لکھیں...