طبع زاد
ایک پاکستانی کی اسرائیلی پارلیمان میں ایران پر گفتگو
امت لاوی نے کہا، ہم پاکستان کو دشمن نہیں سمجھتے، ہم ایرانی عوام کو بھی دشمن نہیں سمجھتے۔ ایرانی رجیم ہمارا اصل دشمن ہے، ہم اسے صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے ہرممکن قدم اٹھائیں گے
طبع زاد
امت لاوی نے کہا، ہم پاکستان کو دشمن نہیں سمجھتے، ہم ایرانی عوام کو بھی دشمن نہیں سمجھتے۔ ایرانی رجیم ہمارا اصل دشمن ہے، ہم اسے صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے ہرممکن قدم اٹھائیں گے
طبع زاد
کولمبس میں سب سے بڑا مسئلہ کھانے کا تھا، تقریبا سبھی فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس کا کھانا چکھا، ایک دن دیسی کھانے کے لالچ میں انڈین ریسٹورنٹ گھس گیا، قیمتیں دیکھ کر چودہ طبق روشن ہوگئے
طبع زاد
امی نے ارمانے بھائی کو خالی کیسٹ اور گانوں کی فہرست دی کہ اس میں سب بھروا کے لے آؤ، وہ شام کو کیسٹ واپس لے آئے، امی نے کیسٹ لگایا اور ہم نے پہلا گانا سنا
طبع زاد
خالد حمید فاروقی سُرخے تھے، مقدمات بنے تو انھیں پاکستان چھوڑ کے نکلنا پڑا، یورپ میں مشکلات دیکھیں لیکن اعلی تعلیم حاصل کی، یونیورسٹی میں پڑھایا، جیونیوز کے نمائندے رہے
طبع زاد
میں نے کہا، آپ اپنے نغمے کے ساتھ صرف فوٹو بھیج دیں گی تو وہ گانے کی ویڈیو خود بنالیں گے، ستارہ باجی حیران رہ گئیں، میں خود بھی یہ بول کر ہکابکا رہ گیا
طبع زاد
نیوز ریڈ کا تلفظ درست کروانا نیوز پروڈیوسر کا کام ہے، لیکن اب نیوز ریڈر نہیں، سیلی بریٹیز ہوتے ہیں، ان کی غلطی کو غلطی کہنا مہنگا پڑسکتا ہے
طبع زاد
ہیوسٹن میں ان دنوں ڈبو ٹورنامنٹ چل رہا ہے اور اس شام فہیم بھائی کا میچ تھا، میں نے بیس بائیس سال بعد ڈبو کا میچ دیکھا اور وہی جملے سنے جو کبھی انچولی میں بولے جاتے تھے
طبع زاد
دبلا پتلا، منحنی سا، کھچڑی بال، ملگجا کوٹ پینٹ پہنے رہتا، گلے میں ہارمونیم کا پٹا ڈال کر اس بھاری ساز کو اٹھائے پھرتا تھا
طبع زاد
باجماعت عشا کی ادائیگی کے بعد گلاس دھلتے، بوتل کھلتی اور پیاسوں کی پیاس بجھائی جاتی، اگلی صبح میں دفتر پہنچتا تو اس محفل کے کچھ کچھ آثار برقرار ہوتے
طبع زاد
بریکنگ نیوز جاری رہی، مجھے اتنا موقع بھی نہیں ملا کہ واش روم جاکر منہ پر ٹھنڈے پانی کے چھپکے مارلوں، جلتی ہوئی آنکھوں کو کچھ ٹھنڈا کرلوں
طبع زاد
چوڑی ہڈی، ناٹے قد کا آدمی، پیٹ نکلا ہوا، بچے سودا لینے آتے تو جھونگا مانگتے، وہ مرونڈے کا ایک ٹکڑا ہتھیلی پر رکھ دیتا
طبع زاد
لوگ کسی رسالے، کسی کتاب کی فرمائش کرتے، انکل کبھی دائیں، کبھی بائیں ہاتھ کو پھیلاتے اور گوہر مقصود گویا خود اچھل کے ان کے قابو میں آجاتا
کچھ لکھیں...