مذہبیات
جنگ کربلا میں دونوں طرف کتنے افراد قتل ہوئے، قدیم ترین کتابیں کیا بتاتی ہیں، فجر سے عصر تک کا مکمل احوال
آغاز عبداللہ بن عمیر کلبی اور ابن زیاد کے غلام یسار کے انفرادی مبازرے سے ہوا، اجتماعی جنگ بھی ہوئی، ایک خاتون کو بھی قتل کیا گیا
مذہبیات
آغاز عبداللہ بن عمیر کلبی اور ابن زیاد کے غلام یسار کے انفرادی مبازرے سے ہوا، اجتماعی جنگ بھی ہوئی، ایک خاتون کو بھی قتل کیا گیا
مذہبیات
قاجار دور میں یورپی سیاحوں، سفارت کاروں اور سیاحتی مصنفین نے پہلی بار منظم قمہ زنی اور خون آلود عزاداری کی تفصیلات قلم بند کیں
مذہبیات
شیعہ دنیا میں مقبول روایت یہ ہے کہ امام حسین کا سر دوبارہ کربلا پہنچایا گیا اور جسم کے ساتھ دفن کیا گیا، لیکن قدیم مآخذ میں یہ روایت نہیں ملتی
مذہبیات
بعد کی صدیوں میں حرم حسینی صرف زیارت گاہ نہیں رہا بلکہ علمی اور سماجی مرکز بھی بن گیا، جس کے بعد علما اور معروف افراد حرم، رواقوں اور صحنوں میں دفن ہونے لگے
مذہبیات
تعزیہ خوانی کی جڑیں صرف شیعہ سوگواری میں نہیں بلکہ ایرانی قصہ گوئی اور عوامی پرفارمنس کی قدیم روایات میں بھی تلاش کی جاتی ہیں
مذہبیات
پہلی سے دسویں محرم تک روزانہ مجلس کا معمول ابتدا سے منظم صورت میں نہیں تھا، دکن میں ریاستی سرپرستی کے بعد عشرہ محرم میں عزاداری کو خاص شکل ملی
مذہبیات
عام تصور یہ ہے کہ اہل کوفہ نے امام حسین کو تنہا چھوڑ دیا، سچ یہ ہے کہ امام حسین پر جان دینے والوں میں سب سے بڑا گروہ کوفی اصحاب کا تھا
مذہبیات
آج کی عزاداری ایک ہزار سال پر محیط تاریخی ارتقا کا نتیجہ ہے، جس میں سوگ، سیاست، مذہب، ادب اور ثقافت سب نے اپنا کردار ادا کیا
مذہبیات
قہوہ خانے میں بیٹھا ہوا نقال تصویر کے مختلف حصوں کی طرف اشارہ کرکے کربلا کی داستان سناتا تھا، اس طرح تصویر اور داستان ایک دوسرے کا حصہ بن گئے
مذہبیات
أبو مخنف، شیخ مفید اور ابن طاؤس لاکھوں کے مجمع کا ذکر نہیں کرتے، یزیدی فوج کے چند سپاہی رات کے وقت یا عاشور کی صبح خاموشی سے لشکر چھوڑ کر چلے گئے تھے
مذہبیات
ایک ساتھی نے جنگ میں شرکت کی، کئی حملے روکے اور بعض ساتھیوں کے ساتھ مل کر لڑے، پھر امام حسین سے اجازت طلب کرکے چلے گئے، ان کا پیچھا کیا گیا لیکن وہ بچ نکلے
مذہبیات
یزیدی گورنر ابن زیاد نے کوفہ کو عملی طور پر فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا تھا، راستوں پر پہرے تھے، مشتبہ افراد گرفتار کیے جارہے تھے اور قبائل کو سرکاری نگرانی میں رکھا گیا تھا
کچھ لکھیں...