مذہبیات
قرآن کی وہ آیات جو موجودہ قرآن میں نہیں
حضرت عمر، بی بی عائشہ، ابی ابن کعب اور ابو موسیٰ اشعری جیسے صحابہ کے مطابق رسول اللہ کے زمانے میں پڑھی جانے والی کئی آیات اب قرآن میں نظر نہیں آتیں
مذہبیات
حضرت عمر، بی بی عائشہ، ابی ابن کعب اور ابو موسیٰ اشعری جیسے صحابہ کے مطابق رسول اللہ کے زمانے میں پڑھی جانے والی کئی آیات اب قرآن میں نظر نہیں آتیں
مذہبیات
قرآن نے قبلہ اول اور سورہ اسراء والی مسجد اقصیٰ کا مقام نہیں بتایا، رسول اللہ کے سفر معراج کے وقت یروشلم میں ہیکل سلیمانی یا قبۃ الصخرہ موجود نہیں تھا
مذہبیات
سب سے مشہور قصہ نورالدین زنگی کے زمانے کا ہے جب دو فرنگی حاجیوں کے بھیس میں مدینہ آئے، مسجد کے قریب مکان لیا، دن کو عبادت کرتے اور رات کو سرنگ کھودتے رہے
مذہبیات
تورات، زبور، اناجیل اور قرآن زبان، صنف، اسلوب، تنظیم، ڈکشن، متکلم، مخاطب اور ابلاغ کی سمت تک میں ایک دوسرے سے بے حد مختلف ہیں
مذہبیات
غیر مذہبی تاریخ میں بائبل اور قرآن کے انبیا کا وجود نظر نہیں آتا، بعض اقوام یا قبائل کے تاریخی شواہد موجود ہیں، کئی شخصیات کو صرف لقب سے شناخت نہیں کیا جاسکتا
مذہبیات
قرآن میں لفظ خلع استعمال ہی نہیں ہوا، سورۂ بقرہ کی آیت 229 میں عورت کے فدیہ دے کر "رہائی" حاصل کرنے کی بات کی گئی ہے
مذہبیات
کتب احادیث کے مطابق سورۂ نساء کی 34ویں آیت آنے کے بعد ایک رات میں 70 عورتیں شکایت لے کر رسول اللہ کے پاس آئیں کہ ان کے شوہروں نے ان کی پٹائی کی ہے
مذہبیات
آب زمزم کی پیداوار اور سالانہ طلب میں کروڑوں لٹر کا فرق ہے، دنیا میں اس سے زیادہ معدنیات رکھنے والے قدرتی چشمے اور معدنی پانی موجود ہیں
مذہبیات
ثمود تاریخی طور پر قبائلی شناخت رکھتے تھے، قرآن سے پہلے ان کی تباہی اور مقدس اونٹنی سے متعلق داستان موجود تھی، زلزلے سے تباہی کے آثار نہیں
مذہبیات
حجر اسود کو پہلا نقصان اموی لشکر کے محاصرے کے دوران پہنچا، قرامطہ اکھاڑ کر لے گئے اور 22 سال اپنے پاس رکھا، ارضیاتی ساخت کسی کو معلوم نہیں
مذہبیات
اسلامی روایت والے نجاشی کا نام بھی اکسومی تاریخ میں موجود نہیں، سورہ مریم کی متعلقہ آیات حبشہ کے مسیحی فرقے کے لیے قابل قبول نہیں ہوسکتی تھیں
مذہبیات
عیسیٰ کی اپنی لکھی ہوئی کوئی تحریر موجود نہیں، اناجیل وہ کتابیں ہیں جنھیں ان کے مصنفین نے عیسیٰ کو مصلوب کیے جانے کے کئی عشرے بعد لکھا
کچھ لکھیں...